7725 次阅读
4 条回复
ملالہ یوسف زئی اور ایک بھارتی شہری کے لیے امن کا نوبل انعام语言文化
ستیارتھی کو مشترکہ طور پر رواں سال کے نوبل امن انعام کا حقدار قرار دیا گیا ہے۔
ناروے کی نوبل کمیٹی نے جمعے کے روز اوسلو میں اپنے اعلان میں کہا کہ ان دونوں کا انتخاب، بچوں اور نوجوانوں کے استحصال کے خلاف اور تمام بچوں کے لیے تعلیم کے حق کی خاطر ان کی کوششوں کے باعث کیا گیا۔
17 سالہ ملالہ یوسف زئی، نوبل امن انعام حاصل کرنے والی سب سے کم عمر شخصیت ہیں۔ لڑکیوں کی تعلیم کے حق میں مہم چلانے کے باعث، دو سال قبل انہیں اسکول سے گھر جانے کے دوران مسلم عسکریت پسندوں نے سر میں گولی مار دی تھی۔ وہ اب برطانیہ میں مقیم ہیں۔
نوبل کمیٹی نے کہا کہ اپنی کم عمری کے باوجود ملالہ، کئی سال سے لڑکیوں کی تعلیم کے حق کے لئے لڑ رہی ہے۔ کمیٹی نے مزید کہاکہ اُس نے ایک مثال قائم کی ہے کہ بچے اور نوجوان اپنے حالات بہتر بنانے کے لیے خود بھی کوششیں کر سکتے ہیں۔
انعام حاصل کرنے والے دوسرے فرد 60 سالہ بھارتی باشندےکیلاش ستیارتھی ہیں، جو بچوں سے مشقت کے خاتمے کی مہم کے لیے جانے جاتے ہیں۔
نوبل کمیٹی نے کہا کہ جناب ستیارتھی نے گاندھی کی روایت برقرار رکھتے ہوئےکئی انداز سے پرامن مظاہرے کئے اور مالی مفاد کے لیے بچوں سے مشقت لینے کے مسئلے کو اجاگر کیا۔ کمیٹی کے مطابق انہوں نے بچوں کے حقوق کے لیے مختلف بین الاقوامی سمجھوتوں کی جانب پیشرفت میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔

کمیٹی نے ایک بھارتی ہندو اور ایک پاکستانی مسلمان کے شدت پسندی کے خاتمے اور تعلیم کے لیے کوششیں کرنے کے مشترکہ مقصد کی اہمیت کا بھی ذکر کیا۔ کمیٹی نے کہا کہ تخمینے کے مطابق دنیا بھر میں 16 کروڑ 80 لاکھ بچوں سے جبری مشقت لی جاتی ہے۔ کمیٹی نے مزید کہا کہ یہ تعداد سنہ 2000 کے مقابلے میں 7 کروڑ 80 لاکھ کم ہے، جس سے دنیا کے بچوں سے جبری مشقت کے خاتمے کے ہدف کے کچھ قریب ہونے کا اظہار ہوتا ہے۔
ناروے کی نوبل کمیٹی نے جمعے کے روز اوسلو میں اپنے اعلان میں کہا کہ ان دونوں کا انتخاب، بچوں اور نوجوانوں کے استحصال کے خلاف اور تمام بچوں کے لیے تعلیم کے حق کی خاطر ان کی کوششوں کے باعث کیا گیا۔
17 سالہ ملالہ یوسف زئی، نوبل امن انعام حاصل کرنے والی سب سے کم عمر شخصیت ہیں۔ لڑکیوں کی تعلیم کے حق میں مہم چلانے کے باعث، دو سال قبل انہیں اسکول سے گھر جانے کے دوران مسلم عسکریت پسندوں نے سر میں گولی مار دی تھی۔ وہ اب برطانیہ میں مقیم ہیں۔
نوبل کمیٹی نے کہا کہ اپنی کم عمری کے باوجود ملالہ، کئی سال سے لڑکیوں کی تعلیم کے حق کے لئے لڑ رہی ہے۔ کمیٹی نے مزید کہاکہ اُس نے ایک مثال قائم کی ہے کہ بچے اور نوجوان اپنے حالات بہتر بنانے کے لیے خود بھی کوششیں کر سکتے ہیں۔
انعام حاصل کرنے والے دوسرے فرد 60 سالہ بھارتی باشندےکیلاش ستیارتھی ہیں، جو بچوں سے مشقت کے خاتمے کی مہم کے لیے جانے جاتے ہیں۔
نوبل کمیٹی نے کہا کہ جناب ستیارتھی نے گاندھی کی روایت برقرار رکھتے ہوئےکئی انداز سے پرامن مظاہرے کئے اور مالی مفاد کے لیے بچوں سے مشقت لینے کے مسئلے کو اجاگر کیا۔ کمیٹی کے مطابق انہوں نے بچوں کے حقوق کے لیے مختلف بین الاقوامی سمجھوتوں کی جانب پیشرفت میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔
图片:20141010_38_06_v_s2.jpg
کمیٹی نے ایک بھارتی ہندو اور ایک پاکستانی مسلمان کے شدت پسندی کے خاتمے اور تعلیم کے لیے کوششیں کرنے کے مشترکہ مقصد کی اہمیت کا بھی ذکر کیا۔ کمیٹی نے کہا کہ تخمینے کے مطابق دنیا بھر میں 16 کروڑ 80 لاکھ بچوں سے جبری مشقت لی جاتی ہے۔ کمیٹی نے مزید کہا کہ یہ تعداد سنہ 2000 کے مقابلے میں 7 کروڑ 80 لاکھ کم ہے، جس سے دنیا کے بچوں سے جبری مشقت کے خاتمے کے ہدف کے کچھ قریب ہونے کا اظہار ہوتا ہے۔